fbpx
بدھ. مئی 22nd, 2019
وزیراعظم کی ہدایت ، وزیراعلیٰ پنجاب مقتول خلیل کے اہلخانہ سے آج ملاقات کریں گے

وزیراعظم کی ہدایت ، وزیراعلیٰ پنجاب مقتول خلیل کے اہلخانہ سے آج ملاقات کریں گے

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سانحہ ساہیوال کے مقتول خلیل کے اہلخانہ سے آج ملاقات کریں گے، مقتول خلیل کے اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن بنانے کامطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سانحہ ساہیوال کے مقتول خلیل کےاہلخانہ سےآج ملاقات کریں گے، جس میں متاثرین کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔

گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی تھی۔

جس کے بعد عمران خان نے وزیراعلیٰ کو کل متاثرہ خاندان سے ملنے کی ہدایت کی اور اہلخانہ کے ساتھ پولیس کے رویے کی نگرانی کرنے کا حکم بھی دیا جبکہ متاثرہ فیملی میں ایک کینسر کے مریض کے علاج کی بھی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھیں :کیا آپ جانتے ہیں ’زیڈ‘ انگریزی کا آخری حرف نہیں ہے

وزیر اعظم کی موجودگی کے دوران ہی خلیل کے اہل خانہ بورے والہ روڈ پر سراپا احتجاج بنے رہے، مظاہرین نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ دہرایا اور متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم سے وعدے کے مطابق انصاف دلانے کی اپیل بھی کی۔

ورثا کا کہنا تھا کہ انہیں جے آئی ٹی پر اعتماد نہیں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اگر جوڈیشل کمیشن نہیں بنایاگیاتو وہ سڑکوں پر آ کراحتجاج پر مجبور ہوں گے۔

مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیاکے ذریعے پتہ چلا کہ جوڈیشل کمیشن بنایاجارہاہے، کہا جارہا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کل ہم سے ملنے آئیں گے، جلد جوڈیشل کمیشن بنائیں اور ہمیں انصاف فراہم کریں۔

جلیل کا کہنا تھا کہ ہمیں کہاجاتاہےآئیں اورشناخت کریں،انہیں نہیں معلوم کہ مارنےوالےکون تھے، جےآئی ٹی میں خودمارنےوالےلوگ شامل ہیں اور مطالبہ کیا ہم جےآئی ٹی سےمطمئن نہیں ہیں،جوڈیشل کمیشن بنایاجائے۔

مزید پڑھیں : جے آئی ٹی میں خود مارنے والے لوگ شامل ہیں: بھائی خلیل

خیال رہے 31 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے فوری قیام کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرچکے ہیں، 2 افسران کے خلاف معطلی کے بعد انضباطی کارروائی ہورہی ہے، جے آئی ٹی کی تحقیقات میں مسئلہ ہوا تو پھر جوڈیشل کمیشن کے معاملے کو دیکھیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ واقعے میں ملوث ہر شخص کے خلاف کارروائی ہورہی ہے، سانحہ ساہیوال سے متعلق 2 روز میں دوبارہ بریفنگ لوں گا، لواحقین کو 2 کروڑ روپے کی رقم دیں گے۔

واضح رہے کہ 19 جنوری کو ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی کے مبینہ جعلی مقابلے میں ایک بچی اور خاتون سمیت 4 افراد مارے گئے تھے، عینی شاہدین اور سی ٹی ڈی اہل کاروں‌ کے بیانات میں واضح تضاد تھا۔

جی آئی ٹی نے خلیل اور اس کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا تھا جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ذیشان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں جے آئی ٹی سے تفیش کے دوران سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کرکے چار افراد کو قتل کرنے سے انکار کردیا تھا، سی ٹی ڈی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ نہ گاڑی پر فائرنگ کی نہ ہی کہیں سے فائرنگ کا حکم ملا، چاروں افراد موٹر سائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

Source: Ary News

Comments

comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے